اختر عثمان ۔۔۔ اشک آباد ” کے ایک طویل مرثیے سے اقتباسات

(3)

مطلعِ دوم

جب دشتِ کربلا میں دہم کی سحر ہوئی
شرقی ورق پہ سطرِ خفی مشتہر ہوئی
شمشیرِ سُرمہ سا سپرِ مہ کے سَر ہوئی
گویا کہ درپئے شہِ جنّ و بشر ہوئی

انصار اٹھ کھڑے ہوئے فرضِ نماز کو
دیکھا تیمّمِ شہِ والا حجاز کو

صیقل کچھ اور ہو گئے آئینہ رو تمام
مٹّی سے تھے اَٹے ہوئے شب رشک مُو تمام
اُن کے طواف میں تھے ادھر مشک و بُو تمام
باہم جُھکے تھے سجدے میں فرق و گُلو تمام

تسبیح میں چُنے ہوئے دارالسّلام کے
سب تھے ادائے فرض میں پیچھے امام کے

پہنچی اذانِ اکبرِ والا حجاز میں
ساری سماعتیں تھیں بہم ارتکاز میں
خط چشم و گوش کا نہ کھنچا امتیاز میں
گریاں تھے سب نماز سے پہلے نماز میں

گویا شہِ شہاں رہے شاہوں کے سامنے
تصویرِ مصطفٰے تھی نگاہوں کے سامنے

آگے امام ، پیچھے گہر ہائے صف بہ صف
پہلی قطار میں تھے عزیزانِ با شرف
اُن کے عقب نشستہ تھے انصار سر بکف
کعبہ کے مہر ، ماہِ مدینہ ، دُرِ نجف

ضرغامہ و حبیب و زھیر ابنِ قین تھے
سارے فدائے پائے شہِ مشرقین تھے

سجّادۂ ورق پہ رہی چشمِ ممتحن
لڑکا کوئی ، جوان کوئی اور کوئی مسن
سبزہ کسی کے خفتہ تھا ، کوئی صغیر سِن
سر سبز تھے کہ تھے نگراں شاہِ انس و جنّ

تیغِ قلم سے لکھ گئے سب اپنے بخت کو
خوں دے کے سُرخرو ہوئے دیں کے درخت کو

محوِ صلاۃ ، محوِ خشوع و خضوع میں
اک مقتدیٰ صنوبرِ والا شروع میں
صف دار سرو بعد میں ، باہم رکوع میں
یکساں قیام و سجدہ ، غروب و طلوع میں

زاری میں سَر اٹھا کے دوبارہ جھکاتے تھے
دو رکعتوں میں رحل صفت بیٹھ جاتے تھے

پڑھتے تھے متّقی جو تحّیات میں درود
وردِ زبان رہتا تھا دِن رات میں درود
ہر قول میں سلامتی ، ہر بات میں درود
آیات میں اساس تھی ، آیات میں درود

جانیں ہوں اُن چُنے ہوئے اشخاص پر نثار
کوثر پہ جان دیتے تھے ، اخلاص پر نثار

تکبیر اُن کا آئنہ ، توحید میں پلے
تفسیر اُن کے قلب تھے ، تمجید میں پلے
تکفیر اُن سے دُور تھی ، تائید میں پلے
تشہیر اُن کو منع تھی ، تحدید میں پلے

تلوار اُن پہ موم رکوع و سجود میں
تیر اُن کے تن پہ پھول قیام و قعود میں

ناگاہ چند تیر مصلّوں پہ آ گرے
جانا نمازیوں نے کہ اب اُن کے دِن پھرے
پوری نماز ادا کی ، بھلے جسم و جاں چرے
گھیروں کو توڑ توڑ کے خود آخرش گھرے

کیا جنگ جُو لڑے کہ اَماں دے کے چل دیے
پائے شہِ حجاز میں جاں دے کے چل دیے

Related posts

Leave a Comment